اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امیر علی جمالی، ڈاکٹر خلیل مستوئی، عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ڈی پی او این اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر ناصر کاکڑ سمیت محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران و نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران گزشتہ پولیو مہم کے نتائج، درپیش مسائل، ٹیموں کی کارکردگی، بچوں کی کوریج، رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی اور فیلڈ میں پیش آنے والی مشکلات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر آئندہ مہم کے دوران مزید مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔

اجلاس کو آئندہ قومی انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے مائیکرو پلانز، پولیو ٹیموں کی تشکیل، تربیت، فیلڈ مانیٹرنگ، سیکیورٹی انتظامات، ٹرانسپورٹ، حساس علاقوں کی نشاندہی، ٹیموں کی رسائی اور بچوں کی سو فیصد کوریج کے سلسلے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ قومی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط اور مؤثر انداز میں کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پولیو مہم کے دوران پولیو ٹیموں، فیلڈ ورکرز اور دیگر متعلقہ عملے کی حفاظت کے لیے جامع اور مؤثر سیکیورٹی انتظامات یقینی بنائے جائیں تاکہ ٹیمیں بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔

انہوں نے انتظامیہ، پولیس، محکمہ صحت، عالمی ادارہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مہم کے دوران کسی بھی ممکنہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے باہمی رابطے کا مربوط نظام قائم رکھا جائے۔

ڈپٹی کمشنر نے خصوصی طور پر مائیکرو پلانز کی تیاری اور ان کی درستگی پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام مائیکرو پلانز زمینی حقائق کے عین مطابق مرتب کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر علاقے، گاؤں، محلے، آبادی، گھرانوں، پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تعداد، پولیو ٹیموں، روٹس اور کوریج سے متعلق معلومات درست، مکمل اور تازہ ترین ہونی چاہئیں۔

انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مائیکرو پلانز کی فیلڈ ویلیڈیشن لازمی طور پر کرائی جائے اور پلان میں درج معلومات کو موقع پر جا کر زمینی صورتحال سے مطابقت دی جائے تاکہ کسی بھی علاقے، آبادی یا بچے کے رہ جانے کی صورت میں بروقت نشاندہی کرکے اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔