احمد خان غیبزئی نے اپنے بیان میں الزام لگایا کہ محمود خان اچکزئی نے یہ رقم لینے کے بعد حکومت میں حصہ حاصل کیا اور بعد ازاں فوج کے لیے کام کیا۔ تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے کوئی آزادانہ یا سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

قبائلی رہنما نے سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور پشتون سیاست میں بعض فیصلوں اور سیاسی کرداروں پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو سیاسی رہنماؤں کے کردار اور فیصلوں کا جائزہ لینے کا حق حاصل ہے۔

دوسری جانب محمود خان اچکزئی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے اس الزام پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ واضح رہے کہ محمود خان اچکزئی اس سے قبل بھی مختلف سیاسی معاملات پر تنقید کا نشانہ بن چکے ہیں۔ وہ جمہوریت، آئینی بالادستی اور چھوٹے صوبوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں ۔

سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان کی سیاست میں مختلف اوقات میں سیاسی رہنماؤں پر الزامات اور جوابی الزامات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم کسی بھی الزام کی حقیقت جاننے کے لیے مستند شواہد اور متعلقہ فریق کا مؤقف ضروری ہے۔

واضح رہے کہ 2013 کے عام انتخابات کے بعد پشتونخوا ملی عوامی پارٹی بلوچستان میں سیاسی طور پر نمایاں ہوئی تھی اور صوبائی و وفاقی سطح پر سیاسی کردار ادا کرتی رہی