بلوچستان میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے حکومت نے ناراض بلوچوں اور عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی جانب سے حال ہی میں ایک انٹرویو میں واضح کیا گیا کہ مذاکرات کے لیے شرائط طے کر دی گئی ہیں اور یہ شرائط آئین اور قانون کی حدود میں ہیں۔

حکومت کی شرائط درج ذیل ہیں:

1۔ آئین اور قانون کی بالادستی: وزیراعلیٰ بگٹی نے کہا کہ مذاکرات کا کوئی بھی عمل آئین اور قانون کے دائرے میں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کی علیحدگی پسندانہ تحریک یا ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔

2۔ مسلح گروپوں سے کوئی مذاکرات نہیں: وزیراعلیٰ بگٹی نے واضح کیا کہ مسلح عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر سے کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا ۔

3۔ امن اور استحکام کی ترجیح: مذاکرات کا مقصد امن اور استحکام کو فروغ دینا ہے ۔ حکومت چاہتی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، نمایاں شخصیات اور قبائلی عمائدین امن کی بحالی کے لیے کردار ادا کریں ۔

4۔ سیاسی اور سماجی مسائل کا حل: حکومت سیاسی اور سماجی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے ۔ وزیراعلیٰ بگٹی نے کہا کہ عوام کے جائز مسائل کو سننا اور ان کا حل نکالنا حکومت کی ترجیح ہے، اور اس کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔

5۔ غیر ملکی مداخلت کی مخالفت: حکومت کا موقف ہے کہ کسی بھی قسم کی غیر ملکی مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا اور بلوچستان کے مسائل کا حل پاکستان کے آئین اور قوانین کے تحت ہی ممکن ہے ۔

مذاکرات کے لیے دعوت: حکومت نے اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین کو مذاکرات کی دعوت دی ہے تاکہ عوام کے مسائل کو حل کیا جا سکے ۔ وزیراعلیٰ بگٹی کا کہنا ہے کہ فوج اور دیگر ادارے بھی امن کے قیام کے لیے حکومت کے ساتھ ہیں ۔