کوئٹہ (نمائندہ خصوصی) – بلوچستان اسمبلی کا اجلاس آج اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس کا آغاز سانحہ ہنہ اوڑک، زیارت، سورینج اور مزدوروں پر حملے سمیت دیگر دہشت گردی کے واقعات کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی سے ہوا۔
اجلاس میں خضدار میں اسما جتک کے والد کے قتل کا معاملہ شدید ہنگامہ خیز ہوگیا۔ صوبائی وزیر علی مدد جتک اور اپوزیشن لیڈر یونس زہری نے اس واقعے کے احتجاج میں اسمبلی سے واک آؤٹ کر دیا۔
علی مدد جتک نے کہا کہ قتل کے دو روز گزر جانے کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واقعے کی تحقیقات میں حکام کی سست روی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کہا کہ اسما جتک کے والد کے قاتل کا سب کو معلوم ہے مگر نام کوئی نہیں لے رہا۔ انہوں نے وزیر داخلہ ضیا لانگو سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قاتل کو گرفتار کیا جائے اور ایس پی خضدار کو کیوں طلب کیا جا رہا ہے، پولیس اپنا کام کرے۔
اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس، ڈی آئی جی اور ایس پی خضدار کو کل (کل) اسمبلی میں طلب کرلیا ہے تاکہ وہ اس واقعے پر بریفنگ دیں۔




تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…