دالبندین میں 20 اگست 2026 سے تمام بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں کو سیکیورٹی خدشات کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔ اس طویل بندش کے باعث شہر کے عوام، سرکاری ملازمین، پنشنرز اور تاجر برادری شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں ۔
ذرائع کے مطابق نیشنل بینک آف پاکستان سمیت تمام سرکاری و نجی بینکوں کی شاخیں اور اے ٹی ایم مشینیں بند ہیں۔ مقامی صحافیوں کے مطابق اس بندش کے باعث سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ طلبہ کو سکولوں اور کالجوں کی فیسیں جمع کرانے میں بھی دشواری پیش آ رہی ہے ۔
ایک مقامی تاجر نے بتایا کہ "بینک بند ہیں تو کم از کم اے ٹی ایم تو کھول دیے جائیں۔ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک کھولے ہوتے تو بھی عوام پریشان نہ ہوتے۔" انہوں نے کہا کہ انتظامیہ، پولیس، ایف سی اور آرمی کے موجود ہوتے ہوئے بینک اور اے ٹی ایم کا بند ہونا سمجھ سے بالاتر ہے اور انتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس بندش کے باعث تاجروں اور کاروباری افراد کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بعض افراد کو سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کر کے کوئٹہ جانا پڑ رہا ہے تاکہ وہ اپنے مالی معاملات طے کر سکیں ۔ مقامی تاجر افغانستان اور ایران کے ساتھ تجارت کرتے ہیں، جس کے باعث کاروباری سرگرمیوں میں بڑی رقوم گردش کرتی ہیں، مگر بینکنگ سروسز کی بندش نے کاروبار کو مفلوج کر دیا ہے ۔




تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…