کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں 26 ایجنڈے زیرِ غور آئے اور متعدد اہم فیصلے کیے گئے ۔ اجلاس کے بعد صوبائی وزراء میر ظہور احمد بلیدی ، میر ضیاء اللہ لانگو ، میر شعیب نوشیروانی اور مشیر کھیل مینہ مجید نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔

شہداء کو خراج تحسین

اجلاس کا آغاز بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کے شہداء کے لیے دعا سے ہوا اور صوبائی کابینہ نے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا ۔

تعلیمی فیصلے

صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی نے بتایا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ذریعے اسکالرشپس منظور کی گئیں جبکہ تعمیر نو اسکول کالج کو صوبائی کابینہ نے جامعہ کا درجہ دے دیا ہے ۔ بلوچستان کیڈٹ کالج بورڈ میں ردوبدل کیا گیا ہے جبکہ صوبے میں 11 کیڈٹ کالج موجود ہیں ۔

انتظامی فیصلے

کابینہ نے بلوچستان چائلڈ پروٹیکشن رولز 2026 کی منظوری دی جسے اس شعبے میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا گیا ۔ بلوچستان میں نئی تحصیل بنانے کی منظوری بھی دی گئی ۔ پلاننگ مینوئل کا اعلان کیا گیا جبکہ اے اور بی ایریا کی کنفیوژن کو ختم کر دیا گیا ہے ۔

ترقیاتی منصوبے

میر ظہور احمد بلیدی نے بتایا کہ ہرنائی سبی روڈ کے منصوبے کے لیے وفاقی حکومت 15 ارب روپے فراہم کرے گی جبکہ باقی اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی ۔

سیکورٹی صورتحال

صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ زیارت کے شہداء کے لواحقین کی جانب سے لیویز کی بحالی کا کوئی مطالبہ نہیں تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت شہر میں لگے کیمروں کو ہڑتالوں میں نقصان پہنچایا گیا ہے ۔

میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ شعبان میں سیکورٹی فورسز کو بڑی کامیابی ملی ہے اور بلوچستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو توڑا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ تمام قومی شاہراہوں کو محفوظ بنایا جائے گا اور صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے ۔

سیاسی معاملات

میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے اپنے پریس ریلیز میں کہا ہے کہ وہ حکومت میں نہیں آئے گی جبکہ ڈاکٹر مالک بلوچ نے وزیراعلیٰ بننے کی خواہش ظاہر نہیں کی ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات اور واقعات کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔