تہران (نیوز ڈیسک) – ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ ایک بڑا تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد زوردار دھماکے سے نذر آتش ہو گیا۔
پاسداران انقلاب کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق متاثرہ جہاز کی شناخت "الگایا" (Algaya) کے نام سے کی گئی ہے، جس نے آبنائے ہرمز کے "ممنوعہ" راستے سے گزرنے کی کوشش کی تھی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کی تمام کوششیں ناکام رہیں اور پورا جہاز شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا۔
پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس مخصوص آبی راستے کے استعمال کے خطرات سے متعلق پہلے ہی انتباہ جاری کر دیا گیا تھا۔ ایرانی حکام نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز ان کی بحری افواج کی مکمل نگرانی اور کنٹرول میں ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے پر کسی بھی قسم کے واقعے سے عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش پیدا ہو سکتی ہے۔
تنازعے کا پس منظر
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اس اہم ترین راستے پر سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں امریکہ نے ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان میں بڑے پیمانے پر حملے کیے تھے، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کا اعلان کیا تھا ۔




تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…