کوئٹہ: سورینج کے علاقے اسپن کریز میں ایک نجی کوئلہ کان میں گیس کے دھماکے کے نتیجے میں کان منہدم ہو گیا، جس کے باعث 20 مزدور کان کے اندر پھنس گئے جبکہ دو مزدوروں کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں ۔
محکمہ مائنز کے مطابق، دھماکے کے وقت کان کے اندر 25 مزدور کام کر رہے تھے ۔ ابتدائی ریسکیو کارروائی کے دوران تین مزدوروں کو محفوظ نکال لیا گیا ۔ مزدور لیڈر پیر محمد کاکڑ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ پھنسے ہوئے مزدوروں کو نکالنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں ۔
ریسکیو حکام کے مطابق، کان میں زہریلی گیسوں اور ملبے کی موجودگی کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں ۔ ریسکیو ٹیمیں، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ مائنز کے حکام جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور کان کو ہوا دینے اور ملبہ ہٹانے کے لیے کوششیں جاری ہیں ۔
صوبائی وزیر برائے مائنز اینڈ منرلز میر شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے چیف انسپکٹر مائنز اور پی ڈی ایم اے کے سینئر حکام کو جائے وقوعہ پر پہنچ کر آپریشن کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام دستیاب مشینری، عملہ اور ہنگامی وسائل ریسکیو ٹیموں کو فراہم کر دیے گئے ہیں ۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں کوئلہ کانوں میں حفاظتی اقدامات کی عدم پابندی کے باعث اکثر حادثات پیش آتے رہتے ہیں ۔ وزیر نے کہا کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے بلوچستان کی کان کنی صنعت میں حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط کیا جائے گا ۔




تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…